مائل بہ کرم ، چشم عنایات بھی ہو گی

مائل بہ کرم ، چشم عنایات بھی ہو گی
خورشید سے ذروں کی ملاقات بھی ہو گی
مایوس نہیں ہیں شہ خوباں ﷺ کے بھکاری
تقسیم کبھی حسن کی خیرات بھی ہو گی
کٹ جائیں گے ایام میری تشنہ لبی کے
میخانہ سلامت رہے برسات بھی ہو گی
آے گی جہاں گیسوۓ و اللیل کی خوشبو
سجدہ بھی ادا ہو گا مناجات بھی ہو گی
یہ دور بڑے نام سے منسوب ہوا ہے
اس نام کی نسبت سے مکافات بھی ہو گی
آقا ﷺ کبھی بدلیں گے میرے شام و سحر بھی
تبدیل کبھی صورت حالات بھی ہو گی
چمکے گی درو بام کی تقدیر بھی واصف
اس کھر پہ کبھی تابش لمحات بھی ہو گی

Print Friendly, PDF & Email

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*