اللہ اللہ کے نبی سے

اللہ اللہ کے نبی سے فریاد ہے نفس کی بدی سے دن بھر کھیلوں میں خاک اڑائی لاج آئی نہ ذرّوں کی ہنسی سے شب بھر سوتے ہی سے غرض تھی تاروں نے ہزار دانت پیسے ایمان پہ موت بہتر Continue reading اللہ اللہ کے نبی سے

دل کو اُن سے خدا جدا نہ کرے

دل کو اُن سے خدا جدا نہ کرے بے کسی لوٹ لے خدا نہ کرے اس میں روضہ کا سجدہ ہو کہ طواف ہوش میں جو نہ ہو وہ کیا نہ کرے یہ وہی ہیں کہ بخش دیتے ہیں کون Continue reading دل کو اُن سے خدا جدا نہ کرے

چمن طیبہ میں سنبل جو سنوارے گیسو

چمن طیبہ میں سنبل جو سنوارے گیسو حور بڑھ کر شکنِ ناز پہ وارے گیسو کی جو بالوں سے ترے روضہ کی جاروب کشی شب کے شبنم نے تبرک کو ہیں دھارے گیسو ہم سیہ کاروں پہ یا رب تپشِ Continue reading چمن طیبہ میں سنبل جو سنوارے گیسو

اُن کی مہک نے دل کے غنچے کھال دئیے ہیں

اُن کی مہک نے دل کے غنچے کھال دئیے ہیں جس راہ چل گئے ہیں کوچے بسا دئیے ہیں جب آ گئی ہیں جوشِ رحمت پہ اُن کی آنکھیں جلتے بجھا دیے ہیں روتے ہنسا دئیے ہیں اک دل ہمارا Continue reading اُن کی مہک نے دل کے غنچے کھال دئیے ہیں

وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں

وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں تیرے دن اے بہار پھرتے ہیں جو ترے در سے یار پھرتے ہیں دربدر یوں ہی خوار پھرتے ہیں آہ کل عیش تو کیے ہم نے آج وہ بے قرار پھرتے ہیں ان کے Continue reading وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں

رشکِ قمر ہوں رنگِ رُخِ آفتاب ہوں

رشکِ قمر ہوں رنگِ رُخِ آفتاب ہوں ذرّہ ترا جو اے شہِ گردُوں جناب ہوں در نجف ہوں گوہر پاکِ خوشاب ہوں یعنی تراب رہ گزر بو تراب ہوں گر آنکھ تو ابر کی چشم پر آب ہوں دل ہوں Continue reading رشکِ قمر ہوں رنگِ رُخِ آفتاب ہوں

ہے کلام الہٰی میں شمس و ضحی ترے چہرئہ نور فزا کی قسم

ہے کلام الہٰی میں شمس و ضحی ترے چہرئہ نور فزا کی قسم قسم شبِ تار میں راز یہ تھا کہ حبیب کی زُلفِ دوتا کی قسم ترے خلق کق حق نے عظیم کہا تری خلق کو حق نے جمیل Continue reading ہے کلام الہٰی میں شمس و ضحی ترے چہرئہ نور فزا کی قسم

گزرے جس راہ سے وہ سیدِ والا ہو کر

گزرے جس راہ سے وہ سیدِ والا ہو کر رہ گئی ساری زمیں عنبر سارا ہو کر رُخ انور کی تجلی جو قمر نے دیکھی رہ گیا بوسہ دہِ نقش کف پا ہو کر وائے محرومی قسمت کہ پھر اب Continue reading گزرے جس راہ سے وہ سیدِ والا ہو کر

تاب مرآت سحر گرد بیابان عرب

تاب مرآت سحر گرد بیابان عرب غازئہ روئے قمر دود چراغانِ عرب اللہ اللہ بہار چمنستان عرب پاک ہیں لوث خزاں سے گل و ریحانِ عرب جوشش ابر سے خون گل فردوس گرے چھیڑ دے رگ کو اگر خار بیابانِ Continue reading تاب مرآت سحر گرد بیابان عرب

لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا

لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا شاد ہر ناکام ہو ہی جائے گا جان دے دو وعدئہ دیدر پر نقد اپنا کام ہو ہی جائے گا شاد ہے فردوس یعنی ایک دن قسمت خدام ہو ہی جائے گا Continue reading لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا