چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے

چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے
مرا دل بھی چمکا دے چمکانے والے
برستا نہیں دیکھ کر ابر رحمت
بدوں پر بھی برسا دے برسانے والے
مدینے کے خطے خدا تجھ کو رکھے
غریبوں فقیروں کے ٹھہرانے والے
تو زندہ ہے واللہ تو زندہ ہے واللہ
مرے چشمِ عالم سے چھپ جانے والے
میں مجرم ہوں آقا مجھے ساتھ لے لو
کہ رستے میں ہیں جا بجا تھانے والے
حرم کی زمیں اور قدم رکھ کے چلنا
ارے سر کا موقع ہے او جانے والا
چل اُٹھ جبہہ فرسا ہو ساقی کے در پر
در جود اے میرے سستانے والے
تیرا کھائیں تیرے غلاموں سے اُلجھیں
ہیں منکر عجب کھانے غرانے والے
رہے گا یوں ہی اُن کا چرچا رہے گا
پڑے خاک ہو جائیں جل جانے والے
اب آئی شفاعت کی ساعت اب آئی
ذرا چین لے میرے گھبرانے والے
رِضاؔ نفس دشمن ہے دم میں نہ آنا
کہاں تم نے دیکھے ہیں چندرانے والے
٭٭٭

Print Friendly, PDF & Email

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*