نبی سرورِ ہر رسول و ولی ہے

نبی سرورِ ہر رسول و ولی ہے
نبی راز دارِ مَعَ اللہ لی ہے
وہ نامی کہ نامِ خدا نام تیرا
رؤوف و رحیم و علیم و علی ہے
ہے بیتاب جس کیلئے عرش اعظم
وہ اس رہر و لامکاں کی گلی ہے
نکیرین کرتے ہیں تعظیم میری!
فدا ہو کے تجھ پر یہ عزت ملی ہے
تلاطم ہے کشتی پہ طوفان غم کا
یہ کیسی ہوائے مخالف چلی ہے
نہ کیوں کر کہوں یا حَبِیْبِیْ اَغِثْنِیْ
اسی نام سے ہر مصیبت ٹلی ہے
صبا ہے مجھے صرِ صرِ دشت طیبہ
اسی سے کلی میرے دل کی کھلی ہے
ترے چاروں ہمدم ہیں یکجان یکدل
ابوبکر فاروق عثمان علی ہے
خدا نے کیا تجھ کو آگاہ سب سے
دو عالم میں جو کچھ خفی و جلی ہے
کروں عرض کیا تجھ سے اے عالمِ السر
کہ تجھ پر مری حالت دل کھلی ہے
تمنا ہے فرمائیے روزِ محشر
یہ تیری رہائی کی چٹھی ملی ہے
جو مقصد زیارت کا برآئے پھر تو
نہ کچھ قصد کیجئے یہ قصد دلی ہے
ترے درکار درباں ہے جبریل اعظم
ترا مدح خواں ہر نبی و ولی ہے
شفاعت کرے حشر میں جو رضاؔ کی
سوا تیرے کس کو یہ قدرت ملی ہے
٭٭٭

Print Friendly, PDF & Email

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*